نئی دہلی، 21/فروری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)1984کے سکھ مخالف فسادات کی تحقیقات کے لیے مرکزی حکومت کی طرف سے تشکیل کردہ خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی جانچ اور اس سے متعلق کورٹ ٹرائل کی مانیٹرنگ کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا عام آدمی پارٹی نے خیر مقدم کیا ہے۔اس سلسلے میں راجوری گارڈن سے آپ کے رکن اسمبلی جرنیل سنگھ نے پارٹی دفتر میں کہا کہ ہمیں اس بات کا شروع سے احساس تھا کہ مودی حکومت 84کے فسادات کی تفتیش مکمل نہیں کرنا چاہتی ہے، یہ سپریم کورٹ کی طرف سے ایس آئی ٹی کی جانچ کی نگرانی کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایات سے بالکل صاف ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 49دنوں کی حکومت میں سکھ مخالف فسادات کی جانچ کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی، لیکن اس دوران ہماری حکومت چلی گئی، اس کے بعد 14/فروری 2015کو ہماری حکومت کی حلف برداری تقریب سے دو دن پہلے ہی مرکز کی مودی حکومت نے ایس آئی ٹی کی تشکیل کا اعلان کر دیا، لیکن تعجب کی بات ہے کہ دو سال مکمل ہونے کے بعد کسی بھی معاملے میں چارج شیٹ دائر نہیں کی جاسکی ہے۔سکھ مخالف فسادات کو 32سال کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، لیکن ابھی بھی ہم انصاف کی امید میں بیٹھے ہیں۔جرنیل سنگھ نے کہا کہ اگر ہمیں دہلی پولیس دے دی جائے،تو سجن کمار اور جگدیش ٹائٹلر جیل میں ہوں گے۔آپ کے دہلی کنوینر دلیپ پانڈے نے ایک دیگر معاملے میں کارپوریشن کے اقتدار قابض بی جے پی پر اس کے کونسلرکے کام میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن کی آپ کونسلرپونم بھاردواج کے کاموں کے ٹینڈر ہونے کے بعد بھی ٹھیکیدار کام نہیں کر رہے ہیں، اس علاقے میں تقریباََ70لاکھ کے کاموں کے ٹینڈر ہو چکے،لیکن بی جے پی کے اشارے پر ٹھیکیدار کام شروع نہیں کر رہے ہیں۔کونسلر نے اس کی تحریری شکایت کارپوریشن کے کمشنر اور میئر سے بھی کی ہے لیکن ٹھیکیدار ان کی بات نہیں سن رہے ہیں۔پانڈے نے کہا کہ شاید بی جے پی کولگتا ہے کہ اگر آپ کونسلر علاقے میں کام کریں گے تو ان کی شبیہ اچھی بن جائے گی اور بی جے پی کی شبیہ خراب ہو جائے گی۔